روکھا سوکھا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - معمولی، سادہ کھانا، جو مرغن نہ ہو۔ "ایشور نے جو کچھ روکھا سوکھا دیا ہے، وہ کھاؤ۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم پچیسی، ٢٩:١ ) ٢ - بے کیف، بے لطف، جو دلچسپی یا شگفتگی سے خالی ہو۔ "یہ عالمانہ دفعیے روکھے سوکھے تو ہوتے تھے مگر وہ . حریف کے اعتراضوں کو آپس میں لڑا کر اس کی باتوں سے اسی کو جھوٹا کر دیتے ہیں۔"      ( ١٨٨٠ء، نیرنگ خیال، ٩٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ صفت 'روکھا' کے ساتھ سنسکرت اسم 'سوکھا' لگانے سے مرکب 'روکھا سوکھا' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٠ء کو "نیرنگ خیال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - معمولی، سادہ کھانا، جو مرغن نہ ہو۔ "ایشور نے جو کچھ روکھا سوکھا دیا ہے، وہ کھاؤ۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم پچیسی، ٢٩:١ ) ٢ - بے کیف، بے لطف، جو دلچسپی یا شگفتگی سے خالی ہو۔ "یہ عالمانہ دفعیے روکھے سوکھے تو ہوتے تھے مگر وہ . حریف کے اعتراضوں کو آپس میں لڑا کر اس کی باتوں سے اسی کو جھوٹا کر دیتے ہیں۔"      ( ١٨٨٠ء، نیرنگ خیال، ٩٠ )

جنس: مذکر